"اللّٰہ" کے حروف (ا، ل، ل، ہ) کی ترتیب بدلنے اور ان کو جوڑنے سے عربی زبان اور قرآنِ پاک میں جو الفاظ بنتے ہیں، وہ اتنے گہرے ہیں کہ انسان دنگ رہ جاتا ہے۔
1. ل - ہ - ل (لَہْلَھَہ - لَہْل)
اگر ہم ان حروف کو ملا کر دیکھیں تو ایک مادہ بنتا ہے "ل-ہ-ل"۔
لفظ: تَلَہْلُہ (Talahluh)۔
مطلب: چمکنا، روشن ہونا، دمکنا۔
راز: یہ وہی مادہ ہے جو ستاروں کی چمک یا آگ کے شعلے کی تیزی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
قرآنی ربط: "اللّٰہ" کے حروف کو جوڑیں تو اس کی صفت "نُور" سامنے آتی ہے۔ جیسے اللہ نے فرمایا: "اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ" (اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے)۔
اینگل: یہ ظاہر کرتا ہے کہ اللہ وہ ذات ہے جو کائنات کو اپنی تجلی سے روشن کرتی ہے۔
2. ا - ل - ہ (اِلٰہ - اَلِہَ)
یہ ان حروف کی سب سے طاقتور ترتیب ہے۔
لفظ: اِلٰہ (Ilah)۔
مطلب: معبود، وہ ہستی جس کی پوجا کی جائے۔
آیت: "وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ" (اور تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے)۔ (سورہ البقرہ: 163)
اینگل (اَلِہَ): اس کا ایک مطلب "حیران ہونا" بھی ہے۔ یعنی وہ ذات جس کی عظمت کو سوچ کر عقل حیران رہ جائے۔
3. ل - ا - ل (لؤلؤ - لال)
اگر ہاء (ہ) کو ہٹا کر الف اور لام کو بار بار جوڑیں:
لفظ: لُؤْلُؤ (Lulu)۔
مطلب: موتی (Pearls)۔
آیت: "يَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ" (ان دونوں سمندروں سے موتی اور مونگا نکلتا ہے)۔ (سورہ الرحمن: 22)
اینگل: یہ اللہ کے نام کی قیمت اور نفاست کو ظاہر کرتا ہے۔ جیسے موتی قیمتی اور پاکیزہ ہوتا ہے، ویسے ہی اللہ کا نام روح کا زیور ہے۔
4. ہ - ل - ل (ہِلَال - ہَلَّ)
اگر ہم ہاء، لام اور لام کو جوڑیں:
لفظ: ہِلَال (Hilal)۔
مطلب: پہلی رات کا چاند۔
آیت: "يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَهِلَّةِ" (وہ آپ سے چاند کے گھٹنے بڑھنے کے بارے میں پوچھتے ہیں)۔ (سورہ البقرہ: 189)
اینگل: چاند (ہلال) اندھیری رات میں رہنمائی کرتا ہے۔ اسی طرح اللہ کا نام (ہ-ل-ل) انسان کی زندگی کے اندھیروں میں ہدایت کا نور بن کر چمکتا ہے۔
5. ل - ہ - ا (لَہَا)
اگر ہم لام، ہاء اور الف کو جوڑیں:
لفظ: لَہَا (Laha)۔
مطلب: اس (مونث) کے لیے۔
آیت: "لَهَا مَا كَسَبَتْ" (اس جان کے لیے وہی ہے جو اس نے کمایا)۔ (سورہ البقرہ: 286)
اینگل: یہ عربی گرامر میں ملکیت اور صلے کو ظاہر کرتا ہے، جو بتاتا ہے کہ ہر چیز کا اختیار اور بدلہ صرف اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔
ہ: مکمل نام۔
اگر الف (ا) ہٹا دیں تو بچا "لِلّٰہ": اس کا مطلب ہے "اللہ کے لیے"۔ (قرآن: لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ)
اگر پہلا لام (ل) بھی ہٹا دیں تو بچا "لَہٗ": اس کا مطلب ہے "اسی کے لیے ہے"۔ (قرآن: لَهُ الْمُلْكُ)
اگر دوسرا لام (ل) بھی ہٹا دیں تو صرف "ہُ" (ہو) بچا: اس کا مطلب ہے "وہی (اللہ)"۔ (قرآن: لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ)
نتیجہ: کائنات کا کوئی اور لفظ ایسا نہیں ہے جس کے ٹکڑے کرنے سے بھی اس کا مطلب نہ بدلے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ ہر حال میں، ہر جگہ اور ہر شکل میں موجود ہے۔
پورے قرآن میں "اللّٰہ" کا جال (Statistics)
لفظ "اللّٰہ" پورے قرآن میں 2,699 بار آیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ قرآن کی تقریباً ہر دوسری آیت میں اللہ کا ذکر کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے۔
