رحمت کے سمندر کا آغاز: "الرَّحْمٰنِ"
. حرف بہ حرف تجزیہ (Atoms):
اس کے حروفِ اصلی (Root Letters) تین ہیں: ر - ح - م (ر ح م)۔
ر (را): یہ زبان کی نوک سے نکلنے والا حرف ہے جس میں ایک تکرار (Vibration) ہوتی ہے۔
ح (حا): یہ حلق کے درمیان سے نکلتی ہے، جیسے کوئی بہت ٹھنڈی اور میٹھی سانس ہو۔
م (میم): یہ ہونٹوں کے ملنے سے پیدا ہوتا ہے، جو کہ ایک "جامع" اور "مکمل" آواز ہے۔
2. مادے (ر-ح-م) کا قرآنی پھیلاؤ:
قرآنِ پاک میں اس مادے سے مختلف شکلوں میں 339 بار الفاظ آئے ہیں۔
الرَّحْمٰن (169 بار): یہ وہ رحمت ہے جو عام ہے، یعنی کافر، مومن، پرندے، درخت سب کے لیے۔
الرَّحِيم (95 بار): یہ وہ رحمت ہے جو خاص ہے، جو قیامت کے دن صرف مومنوں کے لیے ہوگی۔
أَرْحَام (ارحام - ماں کا پیٹ): یہ لفظ بھی اسی مادے سے نکلا ہے، کیونکہ ماں کے پیٹ سے زیادہ رحمدلی کی جگہ کوئی نہیں۔
3. "الف اور نون" کا جادو (The Surge):
لفظ "رحمن" کے آخر میں جو "ا" اور "ن" (ان) ہے، عربی گرامر میں یہ "جوش" (Intensity) پیدا کرنے کے لیے آتا ہے۔
راز: جیسے ایک پیاسا جب حد سے زیادہ پیاسا ہو تو اسے "عطشان" کہتے ہیں، یا غصے میں بھرے ہوئے شخص کو "غضبان" کہتے ہیں۔
حکمت: اسی طرح جب اللہ کی رحمت "طوفان" کی طرح جوش مارتی ہے اور پوری کائنات کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے، تو اسے "رحمن" کہا جاتا ہے۔ یہ ایسی رحمت ہے جس میں ذرہ برابر بھی کمی نہیں۔
الٹ پلٹ کا زاویہ (Haroof-by-Harf Combinations):
اگر ہم ان حروف (ر، ح، م) کو آگے پیچھے کریں، تو دیکھیں کیسے عجیب معنی نکلتے ہیں:
ح - ر - م (حرم/حرام): * مطلب: روک دینا، محترم بنانا۔
آیت: "جَعَلَ اللَّهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ" (اللہ نے کعبہ کو 'بیتِ حرام' یعنی حرمت والا بنایا)۔ (سورہ المائدہ: 97)
راز: رحمت (رحم) اور حرمت (حرم) کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ جہاں اللہ کی رحمت ہوتی ہے، وہاں اس جگہ کا احترام (حرمت) واجب ہو جاتا ہے۔
م - ر - ح (مرح):
مطلب: فخر سے چلنا، خوش ہونا۔
آیت: "وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا" (اور زمین پر اتراتے ہوئے/فخر سے نہ چلو)۔ (سورہ بنی اسرائیل: 37)
راز: جب انسان پر اللہ کی رحمت (ر-ح-م) ہوتی ہے، تو وہ خوش (م-ر-ح) ہوتا ہے، مگر اللہ نے خبردار کیا کہ اس خوشی میں تکبر نہ آئے
1. صلحِ حدیبیہ کا تاریخی واقعہ (The Agreement Crisis)
جب صلحِ حدیبیہ کا معاہدہ لکھا جا رہا تھا، تو نبی کریم ﷺ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے فرمایا: "لکھو: بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ"۔
کفار کا اعتراض: قریش کے نمائندے سہیل بن عمرو نے فوراً ٹوکا اور کہا: "ہم 'رحمن' کو نہیں جانتے کہ وہ کیا ہے! تم وہی لکھو جو ہم پہلے سے لکھتے آئے ہیں، یعنی: 'بِاسْمِکَ اللّٰھُمَّ' (اے اللہ تیرے نام سے)"۔
قرآنی گواہی: اللہ تعالیٰ نے ان کے اس رویے کو قرآن میں یوں بیان فرمایا:
آیت: "وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اسْجُدُوا لِلرَّحْمَنِ قَالُوا وَمَا الرَّحْمَنُ..."
ترجمہ: "اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ رحمن کو سجدہ کرو، تو وہ کہتے ہیں کہ رحمن کیا ہے؟" (سورہ الفرقان: 60)
2. یمامہ کے "رحمن" کا مغالطہ (The Confusion)
اس دور میں یمامہ کے علاقے میں ایک شخص تھا (مسلمہ کذاب)، جسے اس کی قوم "رحمن الیمامہ" کہتی تھی۔
کفار کا ڈر: مکہ کے کفار کو یہ ڈر تھا کہ اگر وہ "الرحمن" کہیں گے، تو کہیں لوگ یہ نہ سمجھیں کہ وہ یمامہ کے اس جھوٹے مدعی کی پیروی کر رہے ہیں۔
جوابِ الٰہی: اللہ نے واضح کر دیا کہ "الرحمن" صرف اللہ کی صفت ہے اور اس کا کسی انسان سے کوئی تعلق نہیں۔
3. "الرحمن" کے لفظی جوش سے خوف (The Intensity)
جیسا کہ ہم نے پہلے پڑھا کہ "رحمن" کے آخر میں "ا" اور "ن" (ان) ہے، جو جوش اور غلبے کو ظاہر کرتا ہے۔
نفسیاتی وجہ: کفارِ مکہ اللہ کو ایک دور بیٹھا ہوا خدا تو مانتے تھے، لیکن وہ ایک ایسے "رحمن" کو ماننے کو تیار نہیں تھے جس کی رحمت اتنی "جوش" میں ہو کہ وہ ان کی زندگی کے ہر معاملے میں مداخلت کرے اور ان سے سجدہ مانگے۔
ایک علمی نکتہ: "اللہ" اور "الرحمن" کا ملاپ
جب کفار نے اعتراض کیا کہ آپ دو نام (اللہ اور رحمن) کیوں لیتے ہیں، تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی:
آیت: "قُلِ ادْعُوا اللَّهَ أَوِ ادْعُوا الرَّحْمَنَ أَيًّا مَا تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى"
ترجمہ: "آپ فرما دیجیے کہ تم اللہ کہہ کر پکارو یا رحمن کہہ کر، جس نام سے بھی پکارو، اسی کے لیے سب اچھے نام ہیں۔" (سورہ بنی اسرائیل: 110)
ان کا اعتراض: کفار کا خیال تھا کہ غصہ (غضبان) یا پیاس (عطشان) تو جوش میں ہو سکتی ہے، لیکن "رحمت" کا اتنا جوش میں ہونا کہ وہ ہر چیز پر غالب آ جائے، ان کے نزدیک ایک عجیب بات تھی۔ وہ اللہ کو ایک "جبار" اور "قہار" طاقت کے طور پر تو ماننے کو تیار تھے، لیکن ایسی رحمت جو "سیلاب" کی طرح سب کو بہا لے جائے، ان کے سرداری نظام (Ego) کے خلاف تھی۔
2. لفظی وسعت (The Absolute Coverage)
لفظ "رحمن" کا لفظی ترجمہ بنتا ہے: "وہ جو حد سے زیادہ رحم کرنے والا ہے"۔
کفار کا ڈر: وہ سمجھتے تھے کہ اگر ہم نے "رحمن" کو مان لیا، تو اس کا مطلب ہے کہ ہم نے ایک ایسی ہستی کی حاکمیت تسلیم کر لی ہے جس کی رحمت کے سامنے ہمارے بتوں کی کوئی حیثیت نہیں رہے گی۔ "اللہ" کا لفظ ان کے لیے ایک "بڑا خدا" تھا، لیکن "رحمن" کا لفظ ایک "فعال اور متحرک" صفت تھی جو ان سے مکمل سپردگی (Surrender) مانگ رہی تھی۔
