لفظ "بِسْمِ" کی مکمل تحقیقی رپورٹ
ہم نے اس ایک لفظ کو چار مختلف زاویوں (Angles) سے دیکھا ہے:
1. ترکیبی ساخت (Structure)
بِ: یہ "حرفِ جر" ہے، جس کا مطلب ہے "ساتھ" یا "ذریعے"۔ یہ پورے قرآن میں 11,422 بار آیا ہے۔
اسم: اس کا مادہ (Root) "س-م-و" ہے۔ اس کے شروع میں ایک 'الف' تھا جو اللہ کے نام کی برکت اور کثرتِ استعمال کی وجہ سے لکھنے میں گرا دیا گیا تاکہ بندہ اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہ رہے۔
2. مادے (س-م-و) کے چھپے ہوئے خزانے
اس مادے سے پورے قرآن میں 381 الفاظ نکلے ہیں، جن کے دو بڑے رخ ہیں:
سُمُوّ (بلندی): جیسے "سماء" (آسمان)۔ نام (اسم) بھی انسان کو پہچان دے کر گمنامی سے بلند کر دیتا ہے۔
سَمْت (خاموشی اور راستہ): جیسا کہ حدیثِ مبارکہ (السَّمْتُ الصَّالِحُ) سے ثابت ہے، اس کا مطلب ہے وقار والی خاموشی اور سیدھا راستہ۔
3. حروف کی الٹ پلٹ (الٹ پھیر کا جادو)
اگر ہم ان 4 حروف (ب، ا، س، م) کو آگے پیچھے کریں، تو کائنات کے 4 بڑے حقائق سامنے آتے ہیں:
بِسْمِ: بندگی کا آغاز (نام کے ساتھ)۔
بَاسِم: مسکراہٹ اور جمال (مسکرانے والا)۔
اَسْبَاب: دنیا کا نظام (ذرائع اور رستے)۔
اَمْسِ: وقت کی حقیقت (گزرا ہوا کل جس سے
عبرت لینی ہے)۔
1. سُمُوّ (بلندی اور آسمان)
جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ مادہ س-م-و ہے، جس کا مطلب بلندی ہے۔ قرآن میں یہ پہلو اس آیت میں واضح ہے:
آیت: "أَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ"
ترجمہ: "کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے پاکیزہ بات کی کیسی مثال بیان فرمائی؟ (وہ) ایک پاکیزہ درخت کی طرح ہے جس کی جڑ (زمین میں) مضبوطی سے گڑی ہوئی ہے اور اس کی شاخیں آسمان (بلندی) میں ہیں۔" (سورہ ابراہیم: 24)
- ربط: جیسے درخت کی شاخیں آسمان (سماء) کی طرف بلند ہوتی ہیں، ویسے ہی اللہ کا نام (اسم) بندے کے ذکر کو اللہ کے حضور بلند کر دیتا ہے۔
2. سَمْت (وقار والی خاموشی اور راستہ)
اگرچہ "سمت" کا لفظ اپنے مادے کے ساتھ براہِ راست ان حروف میں قرآن میں نہیں ہے، مگر اس کی روح (خاموشی اور صحیح رخ) ان آیات میں موجود ہے:
آیت (خاموشی/انصات): "وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ"
ترجمہ: "اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو اور خاموش (بوقار طریقے سے) رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔" (سورہ الاعراف: 204)
- ربط: یہی وہ "سمتِ صالح" ہے جس کا ذکر حدیث میں آیا، یعنی وہ خاموشی جو ادب اور معرفت پیدا کرے۔
3. اَسْبَاب (دنیا کا نظام اور ذرائع)
انہی حروف (الف، سین، با، با) سے بنا لفظ "اسباب" قرآن میں اس طرح آیا ہے:
آیت: "وَآتَيْنَاهُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ سَبَبًا * فَأَتْبَعَ سَبَبًا"
ترجمہ: "اور ہم نے اسے (ذوالقرنین کو) ہر چیز کا ساز و سامان (سبب/ذریعہ) عطا کیا تھا، تو اس نے ایک راستہ (سبب) اختیار کیا۔" (سورہ الکہف: 84-85)
- ربط: "بِسْمِ" کے حروف ہمیں بتاتے ہیں کہ اللہ نے کائنات کو اسباب (System) کے تحت رکھا ہے، اور ان اسباب کو استعمال کرنے کی چابی اللہ کا نام ہے۔
4. اَمْسِ (گزرا ہوا کل اور عبرت)
انہی حروف (الف، میم، سین) سے بنا لفظ "امس" قرآن میں وقت کی حقیقت بتاتا ہے:
آیت: "إِنَّمَا مَثَلُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا كَمَاءٍ... كَأَنْ لَمْ تَغْنَ بِالْأَمْسِ"
ترجمہ: "دنیا کی زندگی کی مثال تو بس پانی جیسی ہے... (کھیتی کٹ گئی) گویا وہ کل (گزرا ہوا وقت) وہاں تھی ہی نہیں۔" (سورہ یونس: 24)
- ربط: یہ لفظ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جس طرح "کل" گزر گیا، ویسے ہی یہ وقت بھی گزر جائے گا، صرف اللہ کا نام (بِسْمِ) باقی رہے گا۔
5. بَاسِم (مسکراہٹ اور خوشی)
انہی حروف (ب، س، م) سے مسکراہٹ کا پہلو اس آیت میں ہے:
آیت: "فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِنْ قَوْلِهَا"
ترجمہ: "تو وہ (سلیمان علیہ السلام) اس (چیونٹی) کی بات پر مسکرا (تبسم) دیے۔" (سورہ النمل: 19)
- ربط: یہ ظاہر کرتا ہے کہ اللہ کے نام سے شروع ہونے والا کام بندے کے چہرے پر اطمینان اور مسکراہٹ لاتا ہے۔


